Saturday, January 29, 2011

فیس بک کی مالیت ’پچاس ارب ڈالر‘


اطلاعات کے مطابق دنیا کی مقبول ترین سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس میں سے ایک فیس بک میں گولڈمین ساش اور ایک روسی سرمایہ کار سے سرمایہ کاری کی ہے اور اس معاہدے میں فیس بک ویب سائٹ کی مالیت پچاس ارب ڈالر طے کی گئی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ گولڈمین ساش نے نے فیس بک میں چار سو پچاس ملین ڈالر جبکہ ڈیجیٹل سکائی ٹیکنالوجیز نے پچاس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

اخبار نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سرمایہ کاری کے انہی معاہدوں کے دوران فیس بک کی مالیت پچاس ارب ڈالر سے زیادہ رکھنے پر اتفاق ہوا۔

گولڈمین ساش کی سرمایہ کاری سے یہ خیالات بھی سامنے آنے لگے ہیں کہ فیس بک بازارِ حصص کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔

فیس بک کی ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کمپنی نیویارک ٹائمز کی خبر پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتی۔

.اگر فیس بک کی مالیت کا اندازہ پچاس ارب ڈالر لگایا جائے تو یہ ای بے اور ٹائم وارنر سے بھی بڑی کمپنی بن جاتی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق فیس بک میں کی جانے والی نئی سرمایہ کاری ممکنہ طور پر نئی پروڈکٹس کی تیاری کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں فیس بک کے ملازمین اور اس کے ابتدائی دنوں میں اس میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد بھی اپنے حصص بیچ کر فائدہ اٹھا سکیں گے۔

.اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کا سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نجی مارکیٹ میں میں فیس بک، ٹوئٹر اور لنکڈ ان جیسی کمپنیوں کی بڑھوتری پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ ادارہ فیس بک پر پبلک لسٹنگ کے لیے بھی دباؤ ڈال سکتا ہے تام کمپنی کے بانی مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال کمپنی کو سٹاک مارکیٹ میں لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

Friday, January 28, 2011

15 Top Sizzling Hot Girls HD Wallpapers



















ایپل کا چھ ارب ڈالر کا ریکارڈ منافع



آئی فونز اور آئی پیڈز کی اندازوں سےکہیں زیادہ فروخت کی وجہ سے کمپیوٹر اور فون بنانے والی امریکی کمپنی ایپل نے تین ماہ میں چھ ارب ڈالر کا ریکارڈ منافع کمایا ہے۔

ایپل کے چیف ایگزیکٹو سٹیو جابز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے لیے یہ سہ ماہی شاندار رہی ہے‘۔

کمپنی کے مطابق اکتوبر 2010 سے پچیس دسمبر 2010 تک کمپنی کی آمدن پونے ستائیس ارب ڈالر کے لگ بھگ رہی جس میں سے چھ ارب ڈالر منافع تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران بازارِ حصص میں ایپل کے شیئرز کی قیمتوں میں اناسی فیصد جبکہ دو برس میں تین سو اٹھائیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔


تاہم منگل کو سٹیو جابز کے دوبارہ طبی رخصت پر جانے کی خبر کے عام ہونے کے بعد ایپل کے حصص کی قیمتوں میں چھ فیصد کی ابتدائی کمی دیکھی گئی اور کاروبار کے اختتام پر کمپنی کے حصص کی قیمت دو اعشاریہ دو فیصد کم تھی۔

یہ دو برس میں دوسرا موقع ہے کہ سٹیو جابز نے طبی رخصت لی ہے۔ اس سے قبل جنوری 2009 میں بھی وہ اپنے جگر کی پیوند کاری کے لیے چھ ماہ کی رخصت لے چکے ہیں۔

سنہ 2004 میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سٹیو جابز پتّہ کے کینسر کا شکار ہیں اور اس کے بعد سے عوامی تقریبات میں ان کی عدم شرکت نے ان کی صحت کے بارے میں مزید افواہوں کو جنم دیا تھا۔

Thursday, January 27, 2011

’فیس بک کی سکیورٹی کمزور‘



ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بُک کو اپنی سکیورٹی سیٹِنگز کو ایپل کے ایپ سٹورکے معیار کا کر لینا چاہیے۔

سکیورٹی کی کمپنی ’سوفوز‘ کا کہنا ہے کہ فیس بک پر درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس میں سکیورٹی ناقص ہے۔

سوفوز نے یہ بات اپنی انٹرنیٹ سکیورٹی پر رپورٹ ’تھریٹ رپورٹ 2011‘ میں کہی ہے۔ اس کی تجویز ہے کہ فیس بک کو اس معیار کی سکیورٹی استعمال کرنی چاہیے جیسے ایپل کا ایپ سٹور استعمال کرتا ہے۔ ایپل ہر اس پروگرام کی چھان بین اور سکیورٹی چیکنگ کرتا ہے جو اسے ایپ سٹور پر دستیاب ہے۔

تاہم فیس بک نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیق کے مطابق صورتحال بالکل اس کے بر عکس ہے اور اصل میں اس نے اپنے صارفین کی مکمل تحفط کے لیے اقدامات کیے ہوئے ہیں۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ ’ہماری ایک خصوصی ٹیم موجود ہے جو اس کو دیکھتی ہے اور سب سے بڑے خطرات کا جائزہ لیتی ہے۔‘

تاہم سوفوز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فیس بک اس وقت انٹر نیٹ فراڈ کرنے والوں کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ فیس بک اتنی مقبول سائٹ ہے لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فیس بک کسی بھی شخص کو اپلیکیشن، گیمز اور جائزے بنانے کی اجازت دے دیتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے فیس بک کو تو فائدہ ہوتا ہے لیکن صارفین کے لیے یوں خطرناک ہے کہ لوگ اکثر دھوکے میں آ سکتے ہیں اور ہیکرز صارفین کی تمام خفیہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کو ذمہ داری لے کر اپنی سائٹ پر دستیابی سے پہلے ان ایپس کی چھان بین کرنی چاہیے۔

کم خوابی رشتے بگڑنے کا سبب بنتی ہے



برطانیہ میں ایک اہم ادارے ’مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن‘ کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نیند کم آنا ایک اہم بیماری ہے جس کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’گریٹ برٹش سلیپ رپورٹ‘ میں کہا گيا ہے کہ ننید کی کمی اور خراب رشتے، توانائی کا کم ہونا اور توجہ مرکوز کرنے کی استطاعت ختم ہونے میں ربط پایا گیا ہے۔

یہ بات پہلے ہی معلوم ہوچکی ہے کہ صحیح طریقے سے نیند نہ آنے سے ڈپریشن، قوت دفاع میں کمی اور امراض قلب جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

اس سے پہلے برطانیہ میں ایک جائزے سے پتہ چلا تھا کہ برطانیہ تیس فیصد لوگ انسومینیا یعنی کم نیند آنے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔


اس رپورٹ کی تیاری کے لیے جو آن لائن سروے کیا گيا ہے اس میں تقریباً چھ ہزار آٹھ سو لوگوں نے حصہ لیا۔ برطانیہ میں اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا سروے بتایا جا رہا ہے۔

اس میں حصہ لینے میں ان لوگوں نے زیادہ دلچسپی دکھائی جنہیں اپنی نیند کےتئیں تشویش لاحق تھی اور یہ پورے برطانیہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔

لیکن اس سے اچھی نیند اور کم خوابی کے درمیان جو خلاء ہے اس کے متعلق لوگوں کے تجربات کا پتہ ضرور چلتا ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنہیں کم خوابی کی شکایت ہے ان کے رشتوں میں چار گنا مشکلات کا امکان ہے، تین گنا ان کے ڈپریشن کی شکایت ہونے کی گنجائش ہے اور تین گنا توجہ مرکوز کرنے میں مشکلیں آسکتی ہیں۔

مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن میں سینیئر ریسرچر ڈاکٹر ڈین روبوتھم کا کہنا ہے کہ اس میں مبتلا افراد ایسی مشکل میں پھنس سکتے ہیں جہاں کم خوابی سے ان کا ذہنی بیماریوں کا شکار ہونے کا امکان ہے جو مزید نیند کی کمی کا باعث ہوسکتا ہے۔

’یہ اہم ہے کہ لوگ اس مشکل میں پھنسنے سے بچنے کے لیے اپنی نیند بہتر بنانے کے موثر طریقوں سے واقف ہوں۔‘


10 Mysterious Places In World “ HD Wallpapers” Part-1













Priyanka Chopra Latest Pictures "HD"